وکیل کا اختیار

AUTHORITY OF COUNSEL

ایک وکیل کو خصوصی طور پر یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے سائل کے لئے جو بہتر سمجھے کرے۔
(1990 ALD 623 – 1989 CLC 1316)

وکیل کی طرف سے انجام دیئے گئے افعال سائل پر قابل پابندی ہوتے ہیں جب تک اسکے اختیار پر پابندی نہ لگادی گئی ہو۔
(1990 CLC 1473 – AIR 1975 Sc 2202)

فریقین اپنے وکلاء کی طرف سے نیک نیتی پر کئے گئے کاموں کے پابند ہیں جو انہوں نے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر سر انجام دیئے ہوں۔
(AIR 1929 PC 33)

ایک وکیل اپنا اختیار دوسرے وکیل کو منتقل کر سکتا ہے۔
(1984 CLC 2154 – AIR 1932 Lah 373)
(AIR 1922 Cal 515)

عام قسم کے فرائض مثلاً درخواست یا دعویٰ وغیرہ دائر کرنا وکلاء کے کلرکوں کو بھی تفویض کئے جا سکتے ہیں۔
(AIR 1941 Pesh 1 – AIR 1939 Rag 1)

البتہ کلرک اپنے وکیل کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کرنے کا مجاز نہیں۔
(1984 CLC 3332 – AIR 1928 Lah 841)

وکیل دعویٰ بھی واپس لینے کا مجاز ہے بشرطیکہ معاہدے میں اس کے برعکس کوئی شرط شامل نہ ہو۔
(PLD 1993 Lah 76)

وکیل کو مصالحت کرنے یا تنازعہ کو حل کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔
(1992 SCMR 876 – PLD 1992 Lah 432)

وکیل ان معاملوں میں مصالحت نہیں کر سکتا جو دعویٰ سے متعلقہ نہ ہو۔
(1992 SCMR 876)

وکیل حقائق کے کسی معاملے کے بارے میں اقبالی بیان دے سکتا ہے۔
(1989 MLD 141)

وکیل کی طرف سے اقبالی بیان اسکے سائل پر قابل پابندی جب تک کہ حقائق کا غلط ادراک نہ کیا گیا ہو۔
(1992 SCMR 876 – PLD 1965 SC 106)

وکیل کا اقبالی بیان سائل پر اس وقت قابل پابندی نہ ہوگا جب وہ ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیا گیا ہو۔
(1992 SCMR 876 – 1984 CLC 1771)

قانون کے سوال پر غلط اقبالی بیان سائل پر قابل پابندی نہیں ہوگا۔
(1991 MLD 1030 1291 – PLD 1975 Lah 311)

وکیل دعویٰ میں مصالحت کرنے کا مجاز نہیں ہوگا جب تک اسے اس سے متعلق واضح ہدایات نہ دی گئی ہوں۔
(PLD 1979 AJK 23 – AIR 1941 Sindh 28 861)

البتہ ایک با اختیار وکیل دعویٰ میں مصالحت کرنے کا مجاز ہے۔
(1971 SCMR 634 – PLD 1978 Lah 829)

وکالت نامہ کی تعبیر سختی سے کی جانی چاہئے۔
(1991 CLC N67 – 1991 CLC N124)

وکیل یہ اختیار بھی رکھتا ہے کہ وہ سائل کی طرف سے عرضی دعویٰ یا جواب دعویٰ پر دستخط کرے۔
(PLD 1980 Kar 477)

عدالت کو اس امر کا اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی فریق کی گلو خلاصی وکیل کی طرف سے دیئے گئے اقبالی بیان سے کرادے۔
(1993 SCMR 657 – PLD 1979 SC AJK 47)

وکیل کی طرف سے بحث کے دوران اظہار رائے اس کے سائل پر قابل پابندی نہیں ہے۔
(ILR 18 Mad 73)

کسی وکیل کی طرف سے ایک قانونی نکتہ پر دی گئی رائے جو اس نے پہلے دعویٰ میں دی ہو دوسرے مقدمہ میں اس پر قابل پابندی نہیں ہوگی۔
(PLD 1980 SC 22 – PLD 1976 Sc 202)

وکیل کی ابتدائی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مقدمہ کی پیروی مناسب طور پر کرے اور عدالت کی امداد اس طرح سے کرے کہ اسے انصاف کی بناء پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں مدد ملے۔
(PLD 1997 Kar 204)

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Sign In

Register

Reset Password

Please enter your username or email address, you will receive a link to create a new password via email.